دست بدست
معنی
١ - ایک کے ہاتھ سے دوسرے کے ہاتھ میں، ہاتھوں ہاتھ، جلد، شتاب۔ "طے شدہ رقم میں سے نصف اسے دست بدست دی جا چکی تھی۔" ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٣٠٥ ) ٢ - آمنے سامنے، رو برو۔ "جب آپ سے ملاقات ہو گی تو دست بدست لے لیجیے۔" ( ١٩٠٤ء، اقبال نامہ، ٢٨٨:١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دست' کی تکرار ہے دونوں کو حرف جار 'ب' سے ملایا گیا ہے۔ یہ تکرار زور پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اردو میں ١٦١١ء کو قلی قطب شاہ کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ایک کے ہاتھ سے دوسرے کے ہاتھ میں، ہاتھوں ہاتھ، جلد، شتاب۔ "طے شدہ رقم میں سے نصف اسے دست بدست دی جا چکی تھی۔" ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٣٠٥ ) ٢ - آمنے سامنے، رو برو۔ "جب آپ سے ملاقات ہو گی تو دست بدست لے لیجیے۔" ( ١٩٠٤ء، اقبال نامہ، ٢٨٨:١ )